Book - حدیث 1203

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ تَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ

ترجمہ Book - حدیث 1203

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نماز میں بھول واقع ہو جانے کا بیان سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، اس میں( بھول کر) کمی بیشی ہوگئی۔ ابراہیم نخعی ؓ نے کہا: وہم مجھے ہوا ہے ( یاد نہیں رہا کہ استاد محترم علقمہ ؓ نے کمی کا لفظ فرمایا تھا یا زیادتی کا) عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، (کبھی کبھار) میں بھی بھول جاتا ہوں تو جب کسی سے بھول ہو جائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لیا کرے۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے (قبلے کی طرف) منہ پھیرا اور دو سجدے کیے۔ 1۔نماز میں بھول عام طورپر شیطان کے وسوسے اور انسان کی غفلت کی وجہ سے ہوتی ہے نماز میں اس نقص کے ازالے کے لئے سجدہ سہو مقرر کیاگیا ہے۔2۔سجدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز کااظہار ہے۔گویامسلمان اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے اظہار کرتا ہے۔کہ اللہ ہی ہرعیب ونقص سے پاک ہے۔3۔سجدہ عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔اس لئے شیطان اسے ناپسند کرتا ہے۔ مومن جب نماز میں غلطی ہوجانے پر سجدہ کرتاہے۔تو اس سے شیطان کی تذلیل ہوتی ہے۔ کہ اس نے بندے کو نماز کے ثواب سے محروم کرنا چاہا لیکن بندے کو سجدوں کامذید ثواب مل گیا۔4۔نبی اکرمﷺکو نماز میں بھول پیش آجانے میں اللہ کی خاص حکمت تھی۔وہ یہ کہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ بھول کی صورت میں شرعی حکم کیا ہے۔اور سجدے کا کیا طریقہ ہے۔