Book - حدیث 1191

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 1191

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: تین‘پانچ‘سات اور نو وتر پڑھنے کا بیان سیدنا سعد بن ہشام ؓ سے روایت ہے ،ا نہوں نے فرمایا: میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے سوال کرتے ہوئے کہا: ام المومنین ! مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز وتر( تہجد) کے متعلق ارشاد فرمایئے۔ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور( وضو کے لیے) پانی تیار رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں نبی ﷺ کو اٹھانا چاہتا ،اٹھادیتا، آپ مسواک کرتے، وضو کرتے ،پھر نو رکعت نماز پڑھتے ،اس میں صرف آٹھویں رکعت پر( تشہد کے لئے) بیٹھتے تو اپنے رب سے دعائیں کرتے۔( یعنی ) اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف فرمائے، اور دعائیں پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے۔ کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر ( تشہد میں ) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتےاس کی تعریفیں کرتے، رب سے دعائیں مانگتے، اور اس کے نبی پر درود پڑھتے، پھر( قدرے بلند آواز سے) سلام پھیرتے جو ہمیں سن جائے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ سات وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ 1۔نو رکعت وتر اصل میں تہجد مع وتر ہے۔جو ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے۔2۔نو وتر پڑھتے وقت آٹھ رکعت کے بعد تشہد پڑھنا چاہیے۔3۔وتر کی نماز کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا جائز ہے۔لیکن بہتر یہ ہے کہ وتر سب سے آخر میں پڑھے۔رسو ل اللہ ﷺ کا حکم ہے۔( اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا)(صحيح مسلم صلاة المسافرين باب الصلواةمثنیٰ مثنیٰ فی الوتر رکعۃ من آخیر اللیل حدیث 751) اپنی رات کی نمازوتر پر ختم کرو۔ دو رکعت بعد میں پڑھنا بھی اس حکم کے خلاف نہیں کیونکہ یہ اسی طرح ہیں جسطرح مغرب کی نمازکے بعد دوسنتیں ہیں۔ 4۔تہجدکی نماز آٹھ رکعت سے کم پڑھنا بھی جائز ہے۔