Book - حدیث 1188

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي مَنْ نَامَ عَنْ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَكَرَهُ

ترجمہ Book - حدیث 1188

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: اگر نیند یا بھول جانے کی وجہ سےوتر رہ جائیں تو کیا کرے؟ سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص وتر چھوڑ کر سویا رہے (اور اسے جاگ نہ آئے) یا اسے یاد نہ رہے تو اسے چاہیے کہ صبح کو یاد آنے پر وتر پڑھ لے۔‘‘ اس حدیث میں نماز وتر کی اہمیت کا اثبات ہے۔ اگر وہ سوئے رہ جانے سے یا بھول جانے کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آنے اور جاگنے کے بعد اسے پڑھ لے۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وتر کی قضا بھی ضروری ہے۔ اور اس حدیث کی رو سے اسے فجر کی نماز سے پہلے یا فجر کی نماز کے بعد پڑھ لیا جائے۔کیونکہ مکروہ اوقات میں قضا شدہ نماز کی قضا جائز ہے۔ایک دوسری رائے اس سلسلے میں یہ ہے کہ وتر اپنے وقت میں پڑھے جاسکیں تو پھر انھیں پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں اس موقف کی تایئد میں بھی بعض روایات آتی ہیں۔لیکن بعض علمائ کے نزدیک یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے۔جو عمداً وتر چھوڑ دیں دیکھئے۔(حاشیہ ترمذی احمد محمد شاکر 333/2) اور بعض روایات میں نبی کریمﷺ کا یہ عمل بیان ہوا ہے کہ اگر نیند یا بیماری کی وجہ سےآپ کا قیام اللیل رہ جاتا تو آپ سورج نکلنے کے بعد بارہ رکعت پڑھتے۔دیکھئے۔(صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب 18 حدیث 746) اس حدیث سے استدلا ل کرتے ہوئے اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ جس کے وتر رہ جایئں تو وہ سورج نکلنے کے بعد اس کی قضا جفت کی شکل میں دے۔یعنی ایک وتر کی جگہ دو رکعت تین وتر کی جگہ چار رکعت پرھے۔لیکن ہمارے خیال میں ایسااس شخص کے لئے ضروری ہوگا جو قیام اللیل (نماز تہجد ) کاعادی ہو عام شخص کے لئے وتروں کی قضا وتر ہی شکل میں مناسب معلو م ہوتی ہے۔