Book - حدیث 1117

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَلَامِ بَعْدَ نُزُولِ الْإِمَامِ عَنْ الْمِنْبَرِ شاذ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنْ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ

ترجمہ Book - حدیث 1117

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: امام کے منبر سے اترنے کے بعد بات چیت کرنا سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعے کے دن (خطبے سے فارغ ہو کر ) جب منبر سے اترتے تو آپ سے ضرورت کی بات چیت کر لی جاتی تھی مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔تاہم اس قسم کا ایک واقعہ جس میں دوران خطبہ میں خطبہ چھوڑ کر سائل سے گفتگو کرنے کا زکر ہے۔صحیح مسلم۔(الجمعۃ حدیث 876) میں ہے۔علاوہ ازیں اسی قسم کا واقعہ کسی نماز کے موقع پر بھی پیش آیا تھا۔جیسا کہ جامع ترمذی میں ہے۔ نماز کی اقامت کہہ دی گئی تو ایک شخص نے نبی کریمﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو اونگھ آنے لگی (جامع ترمذی حدیث 518)بنا بریں مسئلہ یوں ہی ہے کہ اگرامام یا کوئی شخص کوئی ضروری بات کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں مگر اہل جماعت کو اذیت نہیں ہونی چاہیے۔