Book - حدیث 1080

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ

ترجمہ Book - حدیث 1080

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: نماز چھوڑنے والے کا حکم سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بندے اور مشرک کے درمیان محض ترک نماز ہی (رابطہ) ہے۔ جب اس نے نماز چھوڑ دی تو وہ مشرک ہو گیا۔ 1۔اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا شرک ہے۔جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس نے اللہ کی عبادت چھوڑ دی۔ اور شیطان کی عبادت شروع کردی۔ کیونکہ اللہ کے حکم کے خلاف شیطان کی بات ماننا در اصل شیطان کی عبادت ہے۔پھر شیطان کے پجاری مشرک ہونے میں کیا شک ہے۔؟ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ(الروم۔31) اور نماز قائم کرو۔اور مشرکوں میں سے نہ ہوجائو یعنی مومنوں کو دین کی طرف بلاتے ہوئے اور نصیحت کرتے ہوئے آخر میں یہ نصیحت کی کہ مشرکوں سے نہ ہوجائو۔ گویا کہ مشرک نماز نہیں پڑھتے لیکن مومن تو اس کو چھوڑنے کاتصور نہیں کرسکتا۔2۔ترک نماز کے سوا کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر یا مشرک قرار نہیں دیا جاسکتا سوائے ان اعمال کے جو واقعتاً کفر اور شرک کے اعمال ہیں۔جہاں ان اعمال پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے وہاں یہ مطلب ہے کہ یہ اعمال مسلمانوں کو زیب نہیں دیتے۔یہ تو کافر کریں تو کریں مثلا ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ سباب المسلم فسوق وقتاله كفر(صحیح مسلم الایمان باب بیان قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر حدیث 64) مسلمان سے گالی گلوچ کرنا گناہ ہے اور اس سے جنگ کرناکفر ہے۔ اس کے ساتھ آپس میں لڑنے والوں کو مسلمان بھی قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا! وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا(الحجرات ۔9) اگر مومنوں کی دو جماعتیں آپس مں لڑ پڑیں تو ان میں صؒح کرادیا کرو۔ 3۔مذکورہ روایت سندا ً ضعیف ہے۔تاہم معناً صحیح ہے۔غالباً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔دیکھیے۔(صحیح الترغیب للبانی رقم 565۔567۔وسنن ابن ماجہ الدکتور بشار عواد 1080)