Book - حدیث 1003

كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا بَابُ صَلَاةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ مِنْ الْوَفْدِ قَالَ خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى فَقَضَى الصَّلَاةَ فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ قَالَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ قَالَ اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ

ترجمہ Book - حدیث 1003

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ باب: صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا بیان سیدنا علی بن شیبان ؓ جو ایک وفد میں شامل ہو کر تشریف لائے تھے ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم( اپنے علاقے سے) روانہ ہوئے ( اور مدینہ منورہ تک سفر کیا) حتی کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اور آپ ﷺ کی بیعت کی۔ ہم نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی، پھر آپ کے پیچھے ایک اور نماز پڑھی۔ آپ نے نماز مکمل کی تو دیکھا کہ ایک آدمی صف کے پیچھے اکیلا کھڑا نماز پڑھ رہا ہے۔( جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو) اللہ کے نبی ﷺ اس کے پاس گئے اور فرمایا: ’’شروع سے نماز پڑھو۔ صف کے پیچھے( اکیلا کھڑے ہونے والے کی کوئی نماز نہیں۔‘‘ 1۔صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونا منع ہےھ اور نماز نہیں ہوتی۔یہ تب ہے جب صف میں کھڑے ہونے کی جگہ ہو اور وہ اس کے باوجود پچھلی صف میں اکیلا ہی کھڑا ہوجائے۔اگراگلی صف میں جگہ نہ ہو تو پھر اس کی مجبوری ہے۔امید ہے اسے معذور سمجھا جائےگا۔باقی رہی بات اگلی صف سے کسی کو کھینچ کرساتھ ملانے کی تو وہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے۔2۔اگر عورت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے دوسری عورت موجود نہ ہو تو عورت مردوں کی صف میں کھڑی نہیں ہوسکتی۔اسے اکیلا ہی کھڑا ہوجانا چاہیے۔دیکھئے۔(صحیح البخاری الاذان باب المراۃ وھدھا تکون صفا حدیث 727)