بلوغ المرام - حدیث 898

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْوَلِيمَةِ صحيح وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَقَامَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ، فَبُسِطَتْ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ، وَالْأَقِطُ، وَالسَّمْنُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ

ترجمہ - حدیث 898

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: ولیمے کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین روز تک قیام کیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ شب زفاف گزارنے) کے لیے آپ کی خاطر وہاں خیمہ لگایا گیا‘ چنانچہ میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی۔ اس (دعوت) میں روٹی تھی نہ گوشت۔ اس (تقریب) میں بس یہی تھا کہ آپ نے چرمی دسترخوان (بچھانے ) کا حکم دیا تو وہ بچھا دیے گئے اور ان پر کھجوریں‘ پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا گیا۔ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔)
تشریح : 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سفر میں شادی کرنا جائز ہے ۔ 2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شادی بیاہ اور ولیمے وغیرہ کی تقریبات میں سب رشتہ داروں کا شامل کرنا بھی لازمی اور ضروری نہیں۔ 3. یہ بھی ثابت ہوا کہ ولیمے میں ایک سے زائد کھانے بھی جائز ہیں‘ البتہ اس میں اسراف سے بہرنوع اجتناب ضروری ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري، النكاح، باب اتخاذ السراري......، حديث:5085، ومسلم، النكاح، باب فضيلة إعتاقه أمته ثم يتزوجها، حديث:1365 /3500. 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سفر میں شادی کرنا جائز ہے ۔ 2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شادی بیاہ اور ولیمے وغیرہ کی تقریبات میں سب رشتہ داروں کا شامل کرنا بھی لازمی اور ضروری نہیں۔ 3. یہ بھی ثابت ہوا کہ ولیمے میں ایک سے زائد کھانے بھی جائز ہیں‘ البتہ اس میں اسراف سے بہرنوع اجتناب ضروری ہے۔