بلوغ المرام - حدیث 893

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الْوَلِيمَةِ صحيح وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِمُسْلِمٍ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُجِبْ; عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ.

ترجمہ - حدیث 893

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: ولیمے کا بیان حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ پر مدعو کیا جائے تو اسے وہاں پہنچنا چاہیے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے: ’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مدعو کرے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیے‘ خواہ وہ شادی ہو یا اسی طرح کی کوئی اور دعوت۔‘‘
تشریح : یہ حدیث شادی کے موقع پر کی جانے والی دعوت ولیمہ کے قبول کرنے کو واجب قرار دیتی ہے۔ جمہور کی رائے یہی ہے‘ البتہ وہ یہ شرط ضرور لگاتے ہیں کہ وہاں حاضر ہونے میں کوئی امر مانع نہ ہو‘ مثلاً: کھانا مشتبہ نہ ہو یا محض مالداروں کو مدعو نہ کیا گیا ہو یا باطل کام پرتعاون و استعانت کے لیے اسے دعوت نہ دی گئی ہو یا وہاں کوئی ایسا کام نہ ہو جو غیر پسندیدہ اور شرعاً منکر کی تعریف میں آتا ہو۔اگر ان صورتوں میں سے کوئی صورت ہو تو جمہور علماء کے نزدیک ایسی دعوت میں حاضر ہونا درست نہیں ہے۔
تخریج : أخرجه البخاري، النكاح، باب حق أجابة الوليمة والدعوة......، حديث:5173، ومسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلى دعوة، حديث:1429. یہ حدیث شادی کے موقع پر کی جانے والی دعوت ولیمہ کے قبول کرنے کو واجب قرار دیتی ہے۔ جمہور کی رائے یہی ہے‘ البتہ وہ یہ شرط ضرور لگاتے ہیں کہ وہاں حاضر ہونے میں کوئی امر مانع نہ ہو‘ مثلاً: کھانا مشتبہ نہ ہو یا محض مالداروں کو مدعو نہ کیا گیا ہو یا باطل کام پرتعاون و استعانت کے لیے اسے دعوت نہ دی گئی ہو یا وہاں کوئی ایسا کام نہ ہو جو غیر پسندیدہ اور شرعاً منکر کی تعریف میں آتا ہو۔اگر ان صورتوں میں سے کوئی صورت ہو تو جمہور علماء کے نزدیک ایسی دعوت میں حاضر ہونا درست نہیں ہے۔