بلوغ المرام - حدیث 888

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ الصَّدَاقِ حسن وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: زَوَّجَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلًا امْرَأَةً بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ. أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ. وَهُوَ طَرَفٌ مِنَ الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ الْمُتَقَدِّمِ فِي أَوَائِلِ النِّكَاحِ.

ترجمہ - حدیث 888

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل باب: حق مہر کا بیان حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح ایک عورت کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی کے عوض کیا۔ (اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔ اور یہ کتاب النکاح کے آغاز میں مذکور طویل حدیث (۸۳۳)کا ایک ٹکڑا ہے۔)
تشریح : حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی روایت پہلے گزر چکی ہے جس میں ایک خاتون نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کیا تھا۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی انگوٹھی کے بدلے میں اس خاتون کا نکاح کر دیا تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے نکاح کے خواہش مند کو لوہے کی انگوٹھی لانے کا حکم فرمایا تھا اور جب وہ انگوٹھی بھی اسے نہ ملی تو اس عورت کے ساتھ اس کا نکاح قرآن پاک کی کچھ سورتوں کی تعلیم پر کر دیا۔ اگر یہ حدیث وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے جیسا کہ مصنف رحمہ اللہ نے خود اس کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے تو پھر ان کی یہ بات کہ یہ طویل حدیث کا ٹکڑا ہے‘ وہم سے خالی نہیں۔ الا یہ کہ اس کی تاویل کی جائے کہ آپ نے لوہے کی انگوٹھی پر نکاح کی اجازت دی تھی اگرچہ اس کے نہ ملنے پر عقد نہ ہوا بلکہ تعلیم قرآن کو مہر قرار دیا گیا۔ واللّٰہ أعلم۔
تخریج : أخرجه الحاكم:2 /178 وصححه، ووافقه الذهبي، وانظر حديث:833. حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی روایت پہلے گزر چکی ہے جس میں ایک خاتون نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نکاح کے لیے پیش کیا تھا۔ اس میں یہ نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی انگوٹھی کے بدلے میں اس خاتون کا نکاح کر دیا تھا، بلکہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے نکاح کے خواہش مند کو لوہے کی انگوٹھی لانے کا حکم فرمایا تھا اور جب وہ انگوٹھی بھی اسے نہ ملی تو اس عورت کے ساتھ اس کا نکاح قرآن پاک کی کچھ سورتوں کی تعلیم پر کر دیا۔ اگر یہ حدیث وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے جیسا کہ مصنف رحمہ اللہ نے خود اس کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے تو پھر ان کی یہ بات کہ یہ طویل حدیث کا ٹکڑا ہے‘ وہم سے خالی نہیں۔ الا یہ کہ اس کی تاویل کی جائے کہ آپ نے لوہے کی انگوٹھی پر نکاح کی اجازت دی تھی اگرچہ اس کے نہ ملنے پر عقد نہ ہوا بلکہ تعلیم قرآن کو مہر قرار دیا گیا۔ واللّٰہ أعلم۔