بلوغ المرام - حدیث 12

کِتَابُ الطَّھَارَۃِ بَابُ الْمِيَاهِ صحيح وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً)). أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَزَادَ: ((وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ)).

ترجمہ - حدیث 12

کتاب: طہارت سے متعلق احکام ومسائل باب: پانی کے احکام ومسائل (مختلف ذرائع سے حاصل شدہ پانی کا بیان) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں ڈبکی دے کر نکالنا چاہیے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔‘‘ (اسے بخاری اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔) ابوداود کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے: ’’مکھی (گرتے وقت) اپنے اس پر کے ذریعے سے بچتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے۔‘‘
تشریح : 1. امام ابوداود رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ جب مکھی مشروب میں گرنے لگتی ہے تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے بیماری والا پر آگے بڑھاتی ہے۔ امام احمد اور ابن ماجہ رحمہما اللہ کے ہاں یہ ہے کہ مکھی زہر والا پر آگے بڑھاتی ہے اور جس میں شفا ہوتی ہے اسے پیچھے رکھتی ہے۔ (مسند أحمد:۳ / ۲۴‘ ۶۷، وسنن ابن ماجہ‘ الطب‘ باب الذباب یقع في الإناء‘ حدیث:۳۵۰۴) 2.غوطہ دینے اور ڈبکی دے کر نکالنے سے مقصود یہ ہے کہ شفا والے پر کے ذریعے سے بیماری اور زہر زائل ہو جائے۔ 3. حدیث مذکور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر مکھی کسی سیال (بہنے والی) چیز میں گر کر مرجائے تو وہ چیز نجس نہیں ہو جاتی۔ اس سے یہ حکم بھی نکالا گیا ہے کہ جس جاندار کے جسم میں بہنے والا خون ہی موجود نہ ہو‘ مثلاً: شہد کی مکھی‘ مکڑی‘ بھڑ وغیرہ اور انھی سے ملتے جلتے دیگر حشرات‘ اگر یہ پانی میں گر کر مر جائیں تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا‘ کیونکہ نجاست زدہ ہونے کا سبب تو جانور میں وہ خون ہے جو اس کی موت کی وجہ سے رک جاتا ہے۔ جن حیوانات میں خون گردش ہی نہیں کرتا ان میں یہ (خون رکنے کا) سبب موجود نہیں‘ اس لیے ایسے جانوروں کے مائع چیز میں گرنے سے چیز ناپاک نہیں ہوگی۔
تخریج : أخرجه البخاري، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب في شراب أحدكم فليغمسه، حديث: 3320، وأبوداود، الأطعمة، حديث: 3844. 1. امام ابوداود رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ جب مکھی مشروب میں گرنے لگتی ہے تو اپنے آپ کو بچانے کے لیے بیماری والا پر آگے بڑھاتی ہے۔ امام احمد اور ابن ماجہ رحمہما اللہ کے ہاں یہ ہے کہ مکھی زہر والا پر آگے بڑھاتی ہے اور جس میں شفا ہوتی ہے اسے پیچھے رکھتی ہے۔ (مسند أحمد:۳ / ۲۴‘ ۶۷، وسنن ابن ماجہ‘ الطب‘ باب الذباب یقع في الإناء‘ حدیث:۳۵۰۴) 2.غوطہ دینے اور ڈبکی دے کر نکالنے سے مقصود یہ ہے کہ شفا والے پر کے ذریعے سے بیماری اور زہر زائل ہو جائے۔ 3. حدیث مذکور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر مکھی کسی سیال (بہنے والی) چیز میں گر کر مرجائے تو وہ چیز نجس نہیں ہو جاتی۔ اس سے یہ حکم بھی نکالا گیا ہے کہ جس جاندار کے جسم میں بہنے والا خون ہی موجود نہ ہو‘ مثلاً: شہد کی مکھی‘ مکڑی‘ بھڑ وغیرہ اور انھی سے ملتے جلتے دیگر حشرات‘ اگر یہ پانی میں گر کر مر جائیں تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا‘ کیونکہ نجاست زدہ ہونے کا سبب تو جانور میں وہ خون ہے جو اس کی موت کی وجہ سے رک جاتا ہے۔ جن حیوانات میں خون گردش ہی نہیں کرتا ان میں یہ (خون رکنے کا) سبب موجود نہیں‘ اس لیے ایسے جانوروں کے مائع چیز میں گرنے سے چیز ناپاک نہیں ہوگی۔