بلوغ المرام - حدیث 1021

كِتَابُ الْجِنَايَاتِ بَابُ دَعْوَى الدَّمِ وَالْقَسَامَةِ صحيح وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

ترجمہ - حدیث 1021

کتاب: جرائم سے متعلق احکام و مسائل باب: دعوائے خون اور قسامت کا بیان ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانۂ جاہلیت کے طریقۂ قسامت کو برقرار رکھا۔ اور آپ نے اسی کے مطابق انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا انھوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)
تشریح : 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانۂجاہلیت میں طریقۂ قسامت معتبر تھا‘ پھر اسی قسامت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا۔ 2. قسامت کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کو قتل کر دیا‘ جب معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر گیا تو قاتل نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں نے قتل نہیں کیا۔ اس موقع پر ابوطالب نے کھڑے ہو کر تین باتیں ان کے سامنے رکھیں کہ تینوں میں سے کوئی ایک منتخب کر لو: یا تو ہمیں دیت ادا کر دو‘ یا پچاس آدمیوں کی قسمیں دے دو‘ یا ہم تجھے قتل کریں گے۔ ہمارا قاتل تو ہی ہے۔ اس روز سے قتل کے بارے میں قسامت کا رواج جاری ہوا اور آج تک جوں کا توں چلا آرہا ہے۔ 3.اگر مدعا علیہم قسمیں دے دیں تو بالاتفاق ان پر کوئی دیت نہیں۔ 4.اس معاملے میں شریعت نے کافر کی قسم کو بھی تسلیم کیا ہے۔ 5. یہ معلوم رہے کہ صرف مدعی کے کہنے پر قسموں کا آغاز نہیں ہوگا تاوقتیکہ دیگر شبہات اس کی تائید نہ کریں۔ 6. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دور جاہلیت کی اچھی چیزوں کو اسلام نے برقرار رکھا ہے۔
تخریج : أخرجه مسلم، القسامة، حديث:1670. 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانۂجاہلیت میں طریقۂ قسامت معتبر تھا‘ پھر اسی قسامت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا۔ 2. قسامت کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک شخص نے دوسرے کو قتل کر دیا‘ جب معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر گیا تو قاتل نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں نے قتل نہیں کیا۔ اس موقع پر ابوطالب نے کھڑے ہو کر تین باتیں ان کے سامنے رکھیں کہ تینوں میں سے کوئی ایک منتخب کر لو: یا تو ہمیں دیت ادا کر دو‘ یا پچاس آدمیوں کی قسمیں دے دو‘ یا ہم تجھے قتل کریں گے۔ ہمارا قاتل تو ہی ہے۔ اس روز سے قتل کے بارے میں قسامت کا رواج جاری ہوا اور آج تک جوں کا توں چلا آرہا ہے۔ 3.اگر مدعا علیہم قسمیں دے دیں تو بالاتفاق ان پر کوئی دیت نہیں۔ 4.اس معاملے میں شریعت نے کافر کی قسم کو بھی تسلیم کیا ہے۔ 5. یہ معلوم رہے کہ صرف مدعی کے کہنے پر قسموں کا آغاز نہیں ہوگا تاوقتیکہ دیگر شبہات اس کی تائید نہ کریں۔ 6. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دور جاہلیت کی اچھی چیزوں کو اسلام نے برقرار رکھا ہے۔