کِتَابُ الطَّھَارَۃِ بَابُ الْمِيَاهِ صحيح وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُ النَّاسُ، فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ; فَأُهْرِيقَ عَلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
کتاب: طہارت سے متعلق احکام ومسائل
باب: پانی کے احکام ومسائل (مختلف ذرائع سے حاصل شدہ پانی کا بیان)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ ایک بدوی آیا اور مسجد کے کونے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ جب وہ بدوی پیشاب سے فارغ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول طلب فرمایا جسے اس جگہ پر بہا دیا گیا (جہاں اس نے پیشاب کیا تھا۔) (بخاری و مسلم)
تشریح :
1. امام ترمذی نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ آدمی کا پیشاب ناپاک ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے‘ نیز یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ زمین اگر ناپاک ہو تو پانی سے پاک ہو جاتی ہے‘ خواہ زمین نرم و سہل ہو یا سخت و صعب۔ 2. اس حدیث سے مسجد کی عظمت اور اس کا احترام‘ نادان آدمی کے ساتھ نرمی کرنا‘ سختی اور درشتی نہ کرنا‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن خلق، نہایت عمدہ طریقے سے تعلیم دینا اور دوسرے کئی ایک مسائل نمایاں ہیں۔ راویٔ حدیث: [حضرت انس رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں۔ ان کو ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت کے لیے خدمت گار کے طور پر پیش کر کے سعادت حاصل کی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے لے کر آخری سانس تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے۔ ابو حمزہ ان کی کنیت تھی۔ خزرج کے قبیلہ ٔ نجار سے ہونے کی وجہ سے نجاری خزرجی کہلائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بصرہ کو جائے سکونت بنایا اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ نے ۹۱ یا ۹۲ یا ۹۳ ہجری میں وفات پائی جب کہ آپ کی عمر ۹۹ یا ۱۰۳ سال تھی۔
تخریج :
أخرجه البخاري، الوضوء، باب صب الماء على البول في المسجد، حديث: 221(ب)واللفظ له، ومسلم، الطهارة، باب وجوب غسل البولوغيره من النجاسات...، حديث: 284.
1. امام ترمذی نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے اور اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ آدمی کا پیشاب ناپاک ہے۔ امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے‘ نیز یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ زمین اگر ناپاک ہو تو پانی سے پاک ہو جاتی ہے‘ خواہ زمین نرم و سہل ہو یا سخت و صعب۔ 2. اس حدیث سے مسجد کی عظمت اور اس کا احترام‘ نادان آدمی کے ساتھ نرمی کرنا‘ سختی اور درشتی نہ کرنا‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن خلق، نہایت عمدہ طریقے سے تعلیم دینا اور دوسرے کئی ایک مسائل نمایاں ہیں۔ راویٔ حدیث: [حضرت انس رضی اللہ عنہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص ہیں۔ ان کو ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت کے لیے خدمت گار کے طور پر پیش کر کے سعادت حاصل کی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے لے کر آخری سانس تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے۔ ابو حمزہ ان کی کنیت تھی۔ خزرج کے قبیلہ ٔ نجار سے ہونے کی وجہ سے نجاری خزرجی کہلائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بصرہ کو جائے سکونت بنایا اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ نے ۹۱ یا ۹۲ یا ۹۳ ہجری میں وفات پائی جب کہ آپ کی عمر ۹۹ یا ۱۰۳ سال تھی۔