كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الذَّاتِ وَالنُّعُوتِ وَأَسَامِي اللَّهِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ قَالَ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا
کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جہمیہ وغیرہ کی تردید
باب : اللہ تعالیٰ کو ذات کہہ سکتے ہیں ( اسی طرح شخص بھی کہہ سکتے ہیں ) یہ اس کے اسماء اور صفات ہیں ۔
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبردی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر ورس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ان کے ہاں بھیجا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبید ا للہ بن عیاض نے خبردی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتا یا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ( اور قید میں تھے ) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا ‘ جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔
تشریح :
بنو لحیان کے دو سو آدمیوں نے ان کو گھیرلیا ۔ سات بزرگ شہید ہو گئے تین کو قید کر کے لے چلے ۔ ان ہی میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جسے بنو حارث نے خرید لیا اور ایک مدت تک ان کو قید رکھ کر قتل کیا ۔ حضرت مولانا وحید الزماں نے ان اشعار کا ترجمہ یوں کیا ہے
جب مسلماں بن کے دنیا سے چلو ں
مجھ کو کیا ڈر ہے کسی کروٹ گروں
میرا مرنا ہے خدا کی ذات میں
وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں
تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا
اس کے ٹکڑوں پر وہ برکت دے فزوں
بنو لحیان کے دو سو آدمیوں نے ان کو گھیرلیا ۔ سات بزرگ شہید ہو گئے تین کو قید کر کے لے چلے ۔ ان ہی میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جسے بنو حارث نے خرید لیا اور ایک مدت تک ان کو قید رکھ کر قتل کیا ۔ حضرت مولانا وحید الزماں نے ان اشعار کا ترجمہ یوں کیا ہے
جب مسلماں بن کے دنیا سے چلو ں
مجھ کو کیا ڈر ہے کسی کروٹ گروں
میرا مرنا ہے خدا کی ذات میں
وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں
تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا
اس کے ٹکڑوں پر وہ برکت دے فزوں