كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: 134] صحيح حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، أخبرني عمرو، عن يزيد، عن أبي الخير، سمع عبد الله بن عمرو، أن أبا بكر الصديق ـ رضى الله عنه ـ قال للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله علمني دعاء أدعو به في صلاتي. قال " قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي من عندك مغفرة، إنك أنت الغفور الرحيم ".
کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں اور جہمیہ وغیرہ کی تردید
باب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور اللہ بہت سننے والا ‘ بہت دیکھنے والا ہے ۔ “
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی ‘ انہیں یزید نے ‘ انہیں ابو الخیر نے ‘ انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی دعا سکھائےے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو ” اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا۔ پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے ۔ بلا شبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا ‘ بڑا رحم کرنے والا ہے ۔
تشریح :
اس حدیث کی مناسبت ترجمہ بات سے مشکل ہے ۔ بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے دعا کرنا اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ سنتا دیکھتا ہو تو آپ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ دعا مانگنے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ وہ سنتا دیکھتا ہے ۔ میں کہتا ہوں سبحان اللہ امام بخاری کی باریکی فہم اس دعا میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا ہے بہ صیغہ امر اور بکاف خطاب اور اللہ تعالیٰ کا مخاطب کرنا اسی وقت صحیح ہوگا جب وہ سنتا دیکھتا اور حاضر ہو ورنہ غائب شخص کو کون مخاطب کرے گا پس اس دعا سے باب کا مطلب ثابت ہو گیا ۔ دوسرے یہ کہ حدیث میں وارد ہے جب کوئی تم میں سے نماز پڑھتا ہے تو اپنے پروردگار سے سر گوشی کرتا ہے اور سر گوشی کی حالت میں کوئی بات کہنا اسی وقت مؤثر ہوگی جب مخاطب بخوبی سنتا ہو تو اس حدیث کو اس حدیث کے ساتھ ملانے سے یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کا سمع بے انتہاءہے وہ عرش پر رہ کر بھی نمازی کی سر گوشی سن لیتا ہے اور یہی باب کا مطلب ہے ۔ ( وحیدی )
اس حدیث کی مناسبت ترجمہ بات سے مشکل ہے ۔ بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے دعا کرنا اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ سنتا دیکھتا ہو تو آپ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ دعا مانگنے کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ وہ سنتا دیکھتا ہے ۔ میں کہتا ہوں سبحان اللہ امام بخاری کی باریکی فہم اس دعا میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا ہے بہ صیغہ امر اور بکاف خطاب اور اللہ تعالیٰ کا مخاطب کرنا اسی وقت صحیح ہوگا جب وہ سنتا دیکھتا اور حاضر ہو ورنہ غائب شخص کو کون مخاطب کرے گا پس اس دعا سے باب کا مطلب ثابت ہو گیا ۔ دوسرے یہ کہ حدیث میں وارد ہے جب کوئی تم میں سے نماز پڑھتا ہے تو اپنے پروردگار سے سر گوشی کرتا ہے اور سر گوشی کی حالت میں کوئی بات کہنا اسی وقت مؤثر ہوگی جب مخاطب بخوبی سنتا ہو تو اس حدیث کو اس حدیث کے ساتھ ملانے سے یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کا سمع بے انتہاءہے وہ عرش پر رہ کر بھی نمازی کی سر گوشی سن لیتا ہے اور یہی باب کا مطلب ہے ۔ ( وحیدی )