‌صحيح البخاري - حدیث 6871

كِتَابُ الدِّيَاتِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} [المائدة: 32] صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6871

کتاب: دیتوں کے بیان میں باب : سورۃ مائدہ میں فرمان کہ جس نے مرتے کو بچالیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچالی ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ کبیرہ۔ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فمرایا سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
تشریح : ان میں شرک ایسا گناہ ہے کہ جو بغیر توجہ کئے مرے گا وہ ہمیشہ کے لیے دوزخی ہوگیا۔ جنت اس کے لیے قطعاً حرام ہے۔ بت پرستی اور قبر پرستی ہر دو کی یہی سزا ہے۔ دوسرے گناہ ایسے ہیں جن کا مرتکب اللہ کی مشیت پر ہے وہ چاہے عذاب کرے چاہے بخش دے۔ آیت شریفہ ان اﷲ لایغفر ان یشرک بہ الخ، میں یہ مضمون مذکور ہے۔ ان میں شرک ایسا گناہ ہے کہ جو بغیر توجہ کئے مرے گا وہ ہمیشہ کے لیے دوزخی ہوگیا۔ جنت اس کے لیے قطعاً حرام ہے۔ بت پرستی اور قبر پرستی ہر دو کی یہی سزا ہے۔ دوسرے گناہ ایسے ہیں جن کا مرتکب اللہ کی مشیت پر ہے وہ چاہے عذاب کرے چاہے بخش دے۔ آیت شریفہ ان اﷲ لایغفر ان یشرک بہ الخ، میں یہ مضمون مذکور ہے۔