كِتَابُ الحُدُودِ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ لَعْنِ شَارِبِ الخَمْرِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنَ المِلَّةِ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مَا لَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ
کتاب: حد اور سزاؤں کے بیان میں
باب : شراب پینے والا اسلام سے نکل نہیں جاتا نہ اس پر لعنت کرنی چاہئے ۔
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایاگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مارچکے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہوگیا اسے، اللہ اسے رسوا کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔
تشریح :
اللہ کی حد کو بخوشی برداشت کرنا ہی اس گنہگار کے مومن ہونے کی دلیل ہے پس حد قائم کرنے کے بعد اس پر لعن طعن کرنا منع ہے۔
اللہ کی حد کو بخوشی برداشت کرنا ہی اس گنہگار کے مومن ہونے کی دلیل ہے پس حد قائم کرنے کے بعد اس پر لعن طعن کرنا منع ہے۔