‌صحيح البخاري - حدیث 6779

كِتَابُ الحُدُودِ بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ صحيح حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُعَيْدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنَّا نُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ إِلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6779

کتاب: حد اور سزاؤں کے بیان میں باب : شراب میں چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جعید نے ، ان سے یزید بن خصیفہ نے ، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہوجاتے( اور اسے مارتے) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو اسی کوڑے مارے۔
تشریح : پس شرابی کی آخری سزا اسی کوڑے مارنا ہے۔ پس شرابی کی آخری سزا اسی کوڑے مارنا ہے۔