كِتَابُ الحُدُودِ بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ قَالَ اضْرِبُوهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ
کتاب: حد اور سزاؤں کے بیان میں
باب : شراب میں چھڑی اور جوتے سے مارنا ۔
مہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارابعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مارچکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔
تشریح :
معلوم ہوا کہ گناہ گار کی مذمت میں حد سے آگے بڑھنا معیوب ہے۔
معلوم ہوا کہ گناہ گار کی مذمت میں حد سے آگے بڑھنا معیوب ہے۔