كِتَابُ الفَرَائِضِ بَابُ القَائِفِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَسْرُورٌ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ
کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصول کے بیان میں
باب : قیافہ شناش کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، آپ بہت خوش تھے اور فرمایا عائشہ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز المدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید ( رضی اللہ عنہما) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
تشریح :
یہ شخص قیافہ شناس تھا۔ اس نے ان دونوں کے پیروں ہی سے پہچان لیا کہ یہ دونوں باپ بیٹے ہیں۔ بعض لوگ اس بارے میں شک کرنے والے بھی تھے ان کی اس سے تردید ہوگئی۔ آپ کو اس سے خوشی حاصل ہوئی۔ بعض دفعہ قیافہ شناس کا اندازہ بالکل صحیح ہوجاتا ہے۔
یہ شخص قیافہ شناس تھا۔ اس نے ان دونوں کے پیروں ہی سے پہچان لیا کہ یہ دونوں باپ بیٹے ہیں۔ بعض لوگ اس بارے میں شک کرنے والے بھی تھے ان کی اس سے تردید ہوگئی۔ آپ کو اس سے خوشی حاصل ہوئی۔ بعض دفعہ قیافہ شناس کا اندازہ بالکل صحیح ہوجاتا ہے۔