‌صحيح البخاري - حدیث 6751

كِتَابُ الفَرَائِضِ بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ: أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلْأُمِّ، وَالآخَرُ زَوْجٌ صحيح حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُهْدِيَ لَهَا شَاةٌ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ قَالَ الْحَكَمُ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا وَقَوْلُ الْحَكَمِ مُرْسَلٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُهُ عَبْدًا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6751

کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصول کے بیان میں باب : اگر کوئی عورت مرجائے اور اپنے دو چچا زاد بھائی چھوڑ جائے ایک تو ان میں سے اس کا اخیائی بھائی ہو ، دوسرا اس کا خاوند ہو۔ ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاءتو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کردے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔