‌صحيح البخاري - حدیث 6743

كِتَابُ الفَرَائِضِ بَابٌ: مِيرَاثُ الأَخَوَاتِ مَعَ البَنَاتِ عَصَبَةٌ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ نَضَحَ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِي أَخَوَاتٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6743

کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصول کے بیان میں باب : بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہوجاتی ہیں ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبردی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبردی، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضوکیا۔ پھر اپنے وضوکے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آگیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔