‌صحيح البخاري - حدیث 6740

كِتَابُ الفَرَائِضِ بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الوَلَدِ وَغَيْرِهِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى لَهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6740

کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصول کے بیان میں باب : اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت ملیا بنت عویمر کے بچے کے بارے میں جو ایک عورت کی مار سے مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت کو خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ پھر وہ عورت بچہ گرانے والی جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا مرگئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر کو دے دی جائے اور یہ دیت ادا کرنے کا حکیم اس کے کنبہ والوں کو دیا تھا۔
تشریح : مارنے والی عورت ام عقیقہ بن مروح تھی خطایا شبہ عمد کی دیت کنبہ والوں پر ہوتی ہے اس لیے دیت ادا کرنے کا حکم کنبہ والوں کو دیا۔ ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ نے ترکہ عورت کے خاوند اوربیٹوں کو دلایا تو معلوم ہوا کہ خاوند اولاد کے ساتھ وارث ہوتا ہے اور جب خاوند اولاد کے ساتھ اپنی عورت کا وارث ہوا تو عورت بھی اولاد کے ساتھ اپنے خاوند کی وارث ہوگی۔ ( الحمد للہ آج مسجد اہل حدیث رانی بنور میں نظر ثانی کا کام یہاں تک پورا کیاگیا۔ یوم جمعہ13شوال1396ھ ) مارنے والی عورت ام عقیقہ بن مروح تھی خطایا شبہ عمد کی دیت کنبہ والوں پر ہوتی ہے اس لیے دیت ادا کرنے کا حکم کنبہ والوں کو دیا۔ ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ نے ترکہ عورت کے خاوند اوربیٹوں کو دلایا تو معلوم ہوا کہ خاوند اولاد کے ساتھ وارث ہوتا ہے اور جب خاوند اولاد کے ساتھ اپنی عورت کا وارث ہوا تو عورت بھی اولاد کے ساتھ اپنے خاوند کی وارث ہوگی۔ ( الحمد للہ آج مسجد اہل حدیث رانی بنور میں نظر ثانی کا کام یہاں تک پورا کیاگیا۔ یوم جمعہ13شوال1396ھ )