‌صحيح البخاري - حدیث 6529

كِتَابُ الرِّقَاقِ بَابٌ كَيْفَ الحَشْرُ صحيح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ فَيُقَالُ هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ كَمْ أُخْرِجُ فَيَقُولُ أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6529

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث نے، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں۔ ( پکارنے پر ) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد ( ننانوے فیصد دوزخمی ایک جنتی ) صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہوگی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔
تشریح : اس لیے اگر ننانوے فیصدی بھی دوزخ میں جائیں تو تم کو فکر نہ کرنا چاہئے ایک فیصد آدم علیہ السلام کی اولاد میں سارے سچے مسلمان آجائیں گے۔ بلکہ دوسری امتوں کے موحد اشخاص بھی ہوں گے۔ اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ دوزخ کی مردم شماری جنت کی مردم شماری سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اس لیے اگر ننانوے فیصدی بھی دوزخ میں جائیں تو تم کو فکر نہ کرنا چاہئے ایک فیصد آدم علیہ السلام کی اولاد میں سارے سچے مسلمان آجائیں گے۔ بلکہ دوسری امتوں کے موحد اشخاص بھی ہوں گے۔ اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ دوزخ کی مردم شماری جنت کی مردم شماری سے کہیں زیادہ ہوگی۔