كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ «لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا» صحيح حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا، وَلاَ فَحَّاشًا، وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ المَعْتِبَةِ: «مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ»
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: آنحضرت ﷺ سخت گو اور بد زبان نہ تھے
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو ابو یحییٰ فلیح بن سلیمان نے خبردی ، انہیں ہلال بن اسامہ نے بیان کیا اوران سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گالی دیتے تھے ۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے ۔ اس کی پیشانی میں خاک لگے ۔
تشریح :
قال الخطابی ھذا الدعا ءیحتمل وجھین ان یجر بوجھہ فیصیب التراب جبینہ والذکر ان یکون لہ دعاءبالطاعۃ فیصلی فیترب جبینہ وقال الداودی ھذہ کلمۃ جرت علی لسان العرب ولایراد حقیقتھا ( عینی ) یعنی یہ دعا احتمال بھی رکھتی ہے کہ وہ شخص چہرے کے بل کھینچا جائے اور اس کی پیشانی کو مٹی لگے یا اس کے حق میں نیک دعابھی ہو سکتی ہے کہ وہ نماز پڑھے اور نماز میں بحالت سجدہ اس کی پیشانی کو مٹی لگے۔ داؤدی نے کہا کہ یہ ایسا کلمہ ہے جو اہل عرب کی زبان پرعموماً جاری رہتا ہے اور اس کی حقیقت مراد نہیں لی جایا کرتی۔
قال الخطابی ھذا الدعا ءیحتمل وجھین ان یجر بوجھہ فیصیب التراب جبینہ والذکر ان یکون لہ دعاءبالطاعۃ فیصلی فیترب جبینہ وقال الداودی ھذہ کلمۃ جرت علی لسان العرب ولایراد حقیقتھا ( عینی ) یعنی یہ دعا احتمال بھی رکھتی ہے کہ وہ شخص چہرے کے بل کھینچا جائے اور اس کی پیشانی کو مٹی لگے یا اس کے حق میں نیک دعابھی ہو سکتی ہے کہ وہ نماز پڑھے اور نماز میں بحالت سجدہ اس کی پیشانی کو مٹی لگے۔ داؤدی نے کہا کہ یہ ایسا کلمہ ہے جو اہل عرب کی زبان پرعموماً جاری رہتا ہے اور اس کی حقیقت مراد نہیں لی جایا کرتی۔