كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ «لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ ﷺ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا» صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ يَهُودَ [ص:13] أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ. قَالَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالعُنْفَ وَالفُحْشَ» قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: «أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ؟ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ»
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: آنحضرت ﷺ سخت گو اور بد زبان نہ تھے
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ، انہیں ایوب سختیانی نے ، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیںحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اورکہا ” السام علیکم “ ( تم پر موت آئے ) اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ٹھہرو ) عائشہ رضی اللہ عنہ ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیئے سختی اور بدزبانی سے بچنا چاہیئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، حضور آپ نے ان کی بات نہیں سنی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا ، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بد دعا قبول ہو جائے گی ۔ لیکن میرے حق میں ان کی بد دعا قبول ہی نہ ہوگی ۔
تشریح :
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت یہودیوں کی فطرت ثانیہ تھی اورآج تک ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت یہودیوں کی فطرت ثانیہ تھی اورآج تک ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔