كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ طِيبِ الكَلاَمِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، - قَالَ شُعْبَةُ: أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلاَ أَشُكُّ - ثُمَّ قَالَ: «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: خوش کلامی کا ثواب
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا کہ مجھے عمرو نے خبردی ، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض ونا گوار ی کا اظہار کیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض وناگواری کااظہار کیا ، شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو ۔ خواہ آدھی کھجور ہی ( کسی کو ) صدقہ کرکے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہوتو اچھی بات کرکے ہی ۔
تشریح :
جہنم سے نجات حاصل کرے۔
جہنم سے نجات حاصل کرے۔