‌صحيح البخاري - حدیث 6018

كِتَابُ الأَدَبِ بَابٌ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6018

کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابو الاحوص نے بیان ، ان سے ابو حصین نے ، ان سے ابو صالح نے اوران سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے ۔
تشریح : معلوم ہوا کہ ایمان کاتقاضا ہے کہ پڑوسی کو دکھ نہ دیا جائے ۔ مہمان کی عزت کی جائے ، زبان کو قابو میں رکھا جائے ، ورنہ ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔ معلوم ہوا کہ ایمان کاتقاضا ہے کہ پڑوسی کو دکھ نہ دیا جائے ۔ مہمان کی عزت کی جائے ، زبان کو قابو میں رکھا جائے ، ورنہ ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔