كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ الوَصَاةِ بِالْجَارِ صحيح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: پڑوسی کے حقوق کا بیان
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھے ابو بکر بن محمد نے خبر دی ، انہیں عمرہ نے اورانہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کردیں ۔
تشریح :
پڑوسی کا بہت ہی بڑا حق ہے مگر بہت کم لوگ اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔
پڑوسی کا بہت ہی بڑا حق ہے مگر بہت کم لوگ اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔