‌صحيح البخاري - حدیث 6011

كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالحُمَّى»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6011

کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریانے بیان کیا ، ان سے عامر نے کہا کہ میںنے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤگے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسی کہ نینداڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
تشریح : مسلمانوں کی یہی شان ہونے چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔ نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں مسلمانوں کی یہی شان ہونے چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔ نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں