كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا. فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: «لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا» يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے ۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا اے اللہ ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پراور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر ۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کردیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی ۔
تشریح :
اس دیہاتی کی دعا غیر مناسب تھی کہ اس نے رحمت الٰہی کو مخصوص کردیا جو عام ہے۔
اس دیہاتی کی دعا غیر مناسب تھی کہ اس نے رحمت الٰہی کو مخصوص کردیا جو عام ہے۔