كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا، فَقَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ، فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابو قلابہ نے ، ان سے ابو سلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے ۔ ہم آنحضرت کے ساتھ بیس دنوں تک رہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہو کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یادآرہے ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا ۔ آپ بڑے ہی نرم خو اوربڑے رحم کرنے والے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کوواپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کودین سکھاؤ اور بتاؤ اورتم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہووہ امامت کرائے ۔
تشریح :
بڑا بشرطیکہ علم وعمل میں بھی بڑا ہو ورنہ کوئی چھوٹا اگر سب سے بڑا عالم ہے تو وہی امامت کا حق دار ہے۔
بڑا بشرطیکہ علم وعمل میں بھی بڑا ہو ورنہ کوئی چھوٹا اگر سب سے بڑا عالم ہے تو وہی امامت کا حق دار ہے۔