‌صحيح البخاري - حدیث 6005

كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ فَضْلِ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا» وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6005

کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: یتیم کی پرورش کرنے والے کی فضیلت کا بیان ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اوریتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے ( قرب کو ) بتایا ۔
تشریح : یتامٰی اور بیوہ عورتون کی خبر گیری کرنا بہت ہی بڑی عبادت ہے اس میں جہاد کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی انصاری ہیں ان کا نام حزن تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہٹا کر سہل نام رکھا ۔ سنہ91 ھ میں مدینہ میں فوت ہوئے یہ مدینہ میں آخری صحابی ہیں، ( رضی اللہ عنہ ) یتامٰی اور بیوہ عورتون کی خبر گیری کرنا بہت ہی بڑی عبادت ہے اس میں جہاد کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی انصاری ہیں ان کا نام حزن تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہٹا کر سہل نام رکھا ۔ سنہ91 ھ میں مدینہ میں فوت ہوئے یہ مدینہ میں آخری صحابی ہیں، ( رضی اللہ عنہ )