‌صحيح البخاري - حدیث 6001

كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ قَتْلِ الوَلَدِ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَهُ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ} [الفرقان: 68] الآيَةَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 6001

کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں منصور بن معتمر نے ، انہیں ابو وائل نے ، انہیں عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک بناؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا پھر اس کے بعد فرمایا یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس خوف سے قتل کرو کہ اگر زندہ رہا تو تمہاری روزی میں شریک ہوگا ۔ انہوں نے کہا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید میں یہ آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا آخر “ الخ ، نازل کی کہ ” اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ ناحق کسی کو قتل کرتے ہیں اور نہ وہ زنا کرتے ہیں ۔ “
تشریح : معلوم ہوا کہ شرک اکبر الکبائر ہے اور دوسرے مذکور ہ کبیرہ گناہ ہیں اگر ان کا مرتکب بغیر توبہ مرجائے تو اسے دوزخ میں پہنچا دیتے ہیں شرک کی حالت میں مرنے والا ہمیشہ کے لیے دوزخی ہے خواہ وہ نام نہاد مسلمان ہی ہوں کیونکہ قبروں کو سجدہ کرتا ہے، مردوں کو پکارتا اور ان سے حاجات طلب کرتا ہے تو وہ کاہے کا مسلمان ہے وہ مسلمان بھی مشرک ہے۔ معلوم ہوا کہ شرک اکبر الکبائر ہے اور دوسرے مذکور ہ کبیرہ گناہ ہیں اگر ان کا مرتکب بغیر توبہ مرجائے تو اسے دوزخ میں پہنچا دیتے ہیں شرک کی حالت میں مرنے والا ہمیشہ کے لیے دوزخی ہے خواہ وہ نام نہاد مسلمان ہی ہوں کیونکہ قبروں کو سجدہ کرتا ہے، مردوں کو پکارتا اور ان سے حاجات طلب کرتا ہے تو وہ کاہے کا مسلمان ہے وہ مسلمان بھی مشرک ہے۔