‌صحيح البخاري - حدیث 5994

كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ رَحْمَةِ الوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ وَمُعَانَقَتِهِ صحيح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: كُنْتُ شَاهِدًا لِابْنِ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ دَمِ البَعُوضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَهْلِ العِرَاقِ، قَالَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا، يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ البَعُوضِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5994

کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: بچے کے ساتھ رحم وشفقت کرنا ، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن یعقوب نے بیان کیا ، ان سے ابو نعیم نے بیان کیا کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے ( حالت احرام میں ) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا ( کہ اس کا کیا کفارہ ہوگا ) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو ؟ اس نے بتایا کہ عراق کا ، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو ، ( مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے ) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو ( بے تکلف قتل کر ڈالا ) میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں ( حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔
تشریح : حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے بیشتر کوفہ کے باشندے تھے جنہوں نے باربار خطوط لکھ لکھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلایا تھا اور اپنی وفاداری کا یقین دلایا تھا مگر وقت آنے پر وہ سب دشمنوں سے مل گئے اور میدان کر بلا میں وہ سب کچھ ہوا جو دنیا کو معلوم ہے ، سچ ہے۔ اترجوامۃ قتلت حسینا شفاعۃ جدہ یوم الحساب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے بیشتر کوفہ کے باشندے تھے جنہوں نے باربار خطوط لکھ لکھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلایا تھا اور اپنی وفاداری کا یقین دلایا تھا مگر وقت آنے پر وہ سب دشمنوں سے مل گئے اور میدان کر بلا میں وہ سب کچھ ہوا جو دنیا کو معلوم ہے ، سچ ہے۔ اترجوامۃ قتلت حسینا شفاعۃ جدہ یوم الحساب