كِتَابُ الأَدَبِ بَابُ مَنْ تَرَكَ صَبِيَّةَ غَيْرِهِ حَتَّى تَلْعَبَ بِهِ، أَوْ قَبَّلَهَا أَوْ مَازَحَهَا صحيح حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَنَهْ سَنَهْ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَهِيَ بِالحَبَشِيَّةِ: حَسَنَةٌ، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهَا» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ، يَعْنِي مِنْ بَقَائِهَا
کتاب: اخلاق کے بیان میں
باب: دوسرے کے بچے کو چھوڑ دینا کہ وہ کھیلے اوراس کو بوسہ دینا یا اس سے ہنسنا
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں خالد بن سعید نے ، انہیں ان کے والد نے ، ان سے حضرت ام خالد بنت سعید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ۔ میں ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سنہ سنہ “ عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ یہ حبشی زبان میں ” اچھا “ کے معنی میں ہے ۔ ام خالد نے بیان کیا کہ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتم نبوت سے کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھیلنے دو پھر آپ نے فرمایا کہ تم ایک زمانہ تک زندہ رہو گی اللہ تعالیٰ تمہاری عمر خوب طویل کرے ، تمہاری زندگی دراز ہو ۔ عبدا للہ نے بیان کیا چنانچہ انہوں نے بہت ہی طویل عمر پائی اور ان کی طول عمر کے چر چے ہونے لگے ۔
تشریح :
حضرت ام خالد ، خالد بن سعید بن عاص اموی کی ماں ہیں۔ حبش میں پیدا ہوئی پھر مدینہ لائی گئی بعد بلوغت حضرت زبیر بن عوام سے ان کی پہلی شادی ہوئی ( رضی اللہ عنہا ) ۔
حضرت ام خالد ، خالد بن سعید بن عاص اموی کی ماں ہیں۔ حبش میں پیدا ہوئی پھر مدینہ لائی گئی بعد بلوغت حضرت زبیر بن عوام سے ان کی پہلی شادی ہوئی ( رضی اللہ عنہا ) ۔