كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ قَصِّ الشَّارِبِ صحيح حَدَّثَنَا المَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ نَافِعٍ، ح قَالَ أَصْحَابُنَا: عَنِ المَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: مونچھوں کا کتروانا
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ( مصنف حضرت امام بخاری نے ) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا ، انہوں نے بحوالہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے ۔
تشریح :
کیونکہ مونچھ بڑھانے سے آدمی بد صورت اور مہیب ہوجاتا ہے جیسے ریچھ کی شکل اور کھانا کھاتے وقت تمام مونچھ کے بال کھانے میں مل جاتے ہیں اور یہ ایک طرح کی غلاظت ہے مگر آج کل فیشن پرستوں نے اسی ریچھ کے فیشن کو اپنا کر اپنا حیلہ درندوں سے ملا دیا ہے۔
کیونکہ مونچھ بڑھانے سے آدمی بد صورت اور مہیب ہوجاتا ہے جیسے ریچھ کی شکل اور کھانا کھاتے وقت تمام مونچھ کے بال کھانے میں مل جاتے ہیں اور یہ ایک طرح کی غلاظت ہے مگر آج کل فیشن پرستوں نے اسی ریچھ کے فیشن کو اپنا کر اپنا حیلہ درندوں سے ملا دیا ہے۔