كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابٌ: المُتَشَبِّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتُ بِالرِّجَالِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ» تَابَعَهُ عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: عورتوں کا چال ڈھال اختیار کرنے والے مرد اور مردوں کی چال ڈھال اختیار کرنے والی عورتیں عنداللہ ملعون ہیں
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرودوں پر لعنت بھیجی جو عورتون جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں ۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا ۔
تشریح :
جسے ابو نعیم نے مستخرج میں وصل کیا۔
تشریح : آج اس فیشن کے زمانہ میں گھر گھر میں یہی معاملہ نظر آرہا ہے خاص طور پر کالج زدہ لڑکے لڑکیاں اس بیماریوں میں عموماً مبتلا ہیں اور ایک جدید لعنتی ہپی ازم رواج پکڑ رہا ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں عجیب وغریب شکل وصورت بنا کر بالکل ہونق بنے ہوئے نظر آتے ہیں شریعت اسلامی میں ان تکلفات کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
جسے ابو نعیم نے مستخرج میں وصل کیا۔
تشریح : آج اس فیشن کے زمانہ میں گھر گھر میں یہی معاملہ نظر آرہا ہے خاص طور پر کالج زدہ لڑکے لڑکیاں اس بیماریوں میں عموماً مبتلا ہیں اور ایک جدید لعنتی ہپی ازم رواج پکڑ رہا ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں عجیب وغریب شکل وصورت بنا کر بالکل ہونق بنے ہوئے نظر آتے ہیں شریعت اسلامی میں ان تکلفات کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔