كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ السِّخَابِ لِلصِّبْيَانِ صحيح حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ المَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ: «أَيْنَ لُكَعُ - ثَلاَثًا - ادْعُ الحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ». فَقَامَ الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ السِّخَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَقَالَ الحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَالْتَزَمَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: بچوں کے گلوں میں ہار لٹکانا جائز ہے
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی ، کہا ہم سے ورقاءبن عمر نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے ، ان سے نافع بن جبیر نے بیان ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آ پ کے ساتھ واپس ہوا ، پھر آپ نے فرمایا بچہ کہاں ہے ۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ۔ حسن بن علی کو بلاؤ ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آرہے تھے اور ان کی گردن میں ( خوشبو دار لونگ وغیرہ کا ) ہار پڑا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلا یا کہ ( آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے ) اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے ۔ پھر آپ نے فرمایا اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا ۔
تشریح :
فی الواقع آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا شان ایمان ہے۔ یا اللہ ! میرے دل میں بھی تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل واولاد سے محبت پیدا کر۔
ومن مذھبی حب النبی وآلہ
والناس فیما یعشقون مذاھب
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گلے میں ہار تھا اسی سے باب کا مضمون نکلتا ہے نابالغ بچوں کے لیے ایسے ہار وغیرہ پہنا دینا جائز ہے۔
فی الواقع آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا شان ایمان ہے۔ یا اللہ ! میرے دل میں بھی تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے آل واولاد سے محبت پیدا کر۔
ومن مذھبی حب النبی وآلہ
والناس فیما یعشقون مذاھب
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے گلے میں ہار تھا اسی سے باب کا مضمون نکلتا ہے نابالغ بچوں کے لیے ایسے ہار وغیرہ پہنا دینا جائز ہے۔