كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ القُرْطِ لِلنِّسَاءِ صحيح حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى [ص:159] يَوْمَ العِيدِ رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ المَرْأَةُ تُلْقِي قُرْطَهَا»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: عورتوں کے لیے بالیاں پہننے کا بیان
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھا ئیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعدپھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے ، آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں ۔
تشریح :
حدیث میں بالیاں صدقہ میں دینے کا ذکر ہے یہی باب سے مناسبت ہے یہ بھی معلوم ہو ا کہ عہد نبوی میں مستورات نماز عید میں عام مسلمانوں کے ساتھ عید گاہ میں شرکت کیا کرتی تھیں۔
حدیث میں بالیاں صدقہ میں دینے کا ذکر ہے یہی باب سے مناسبت ہے یہ بھی معلوم ہو ا کہ عہد نبوی میں مستورات نماز عید میں عام مسلمانوں کے ساتھ عید گاہ میں شرکت کیا کرتی تھیں۔