‌صحيح البخاري - حدیث 5881

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ القَلاَئِدِ وَالسِّخَابِ لِلنِّسَاءِ يَعْنِي قِلاَدَةً مِنْ طِيبٍ وَسُكٍّ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ المَرْأَةُ تَصَدَّقُ بِخُرْصِهَا وَسِخَابِهَا»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5881

کتاب: لباس کے بیان میں باب: زیور کے ہار اور خوشبو یا مشک کے ہار عورتیں پہن سکتی ہیں ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ( آبادی سے باہر ) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نمازنہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا ۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں ۔
تشریح : معلوم ہو اکہ عید گاہ میں عورتوں کا جانا عہد نبوی میں عام طور پر معمول تھا بلکہ آپ نے اس قدر تاکید کی تھی کہ حیض والی بھی نکلیں جو صرف دعا میں شریک ہوں۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو آج اس کو معیوب جانتے ہیں حالانکہ آج کل قدم قدم پر پولیس کا انتظام ہوتا ہے اور کوئی بد مزگی نہیں ہوتی پھر بھی بعض الناس مختلف حیلوں بہانوں سے اس کی تاویل کرتے رہتے اور لوگوں کو عورتوں کے روکنے کا حکم کرتے رہتے ہیں۔ روایت میں عورتوں کا صدقہ میں بالیاں اور ہار دینا مذکور ہے یہی باب سے مناسبت ہے۔ معلوم ہو اکہ عید گاہ میں عورتوں کا جانا عہد نبوی میں عام طور پر معمول تھا بلکہ آپ نے اس قدر تاکید کی تھی کہ حیض والی بھی نکلیں جو صرف دعا میں شریک ہوں۔ تعجب ہے ان لوگوں پر جو آج اس کو معیوب جانتے ہیں حالانکہ آج کل قدم قدم پر پولیس کا انتظام ہوتا ہے اور کوئی بد مزگی نہیں ہوتی پھر بھی بعض الناس مختلف حیلوں بہانوں سے اس کی تاویل کرتے رہتے اور لوگوں کو عورتوں کے روکنے کا حکم کرتے رہتے ہیں۔ روایت میں عورتوں کا صدقہ میں بالیاں اور ہار دینا مذکور ہے یہی باب سے مناسبت ہے۔