‌صحيح البخاري - حدیث 5880

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ الخَاتَمِ لِلنِّسَاءِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا الحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى قَبْلَ الخُطْبَةِ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: وَزَادَ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: «فَأَتَى النِّسَاءَ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الفَتَخَ وَالخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلاَلٍ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5880

کتاب: لباس کے بیان میں باب: عورتوں کے لیے ( سونے کی ) انگوٹھی پہننا جائز ہے ہم سے ابو عاصم نبیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کوابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی ، انہیں طاؤس نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں ۔
تشریح : ثابت ہو اکہ عہد رسالت میں عورتوں میں انگوٹھی پہننے کا عام دستور تھا۔ ثابت ہو اکہ عہد رسالت میں عورتوں میں انگوٹھی پہننے کا عام دستور تھا۔