كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: لاَ يَنْقُشُ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِهِ صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ العَزِيزِ [ص:158] بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: «إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلاَ يَنْقُشَنَّ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پرلفظ ” محمد رسول اللہ “ کا نقش نہ کھدوائے
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اوراس میں یہ نقش کھدوایا ” محمد رسول اللہ “ اور لوگوں سے کہہ دیاکہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا ہے ۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کھدوائے ۔
تشریح :
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور سونے کی انگوٹھی عورتیں پہن سکتی ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور سونے کی انگوٹھی عورتیں پہن سکتی ہیں۔