‌صحيح البخاري - حدیث 5876

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ مَنْ جَعَلَ فَصَّ الخَاتَمِ فِي بَطْنِ كَفِّهِ صحيح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَاصْطَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَقِيَ المِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ اصْطَنَعْتُهُ، وَإِنِّي لاَ أَلْبَسُهُ» فَنَبَذَهُ، فَنَبَذَ النَّاسُ قَالَ جُوَيْرِيَةُ: وَلاَ أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ: فِي يَدِهِ اليُمْنَى

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5876

کتاب: لباس کے بیان میں باب: انگوٹھی کا نگینہ اندر ہتھیلی کی طرف رکھنا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اوران سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے ۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنالیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد وثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) آپ نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا ۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا ۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے ” داہنے ہاتھ میں “ بیان کیا ۔
تشریح : کہ آپ انگوٹھی پہنتے تھے۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ۔ نافع بن سرجس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد رکردہ ہیں، حدیث کے بہت ہی بڑے فاضل ہیں اور امام مالک کہتے ہیں کہ جب میں نافع کے واسطہ سے حدیث سن لیتا ہوں تو بالکل بے فکر ہوجاتا ہوں۔ مؤطا میں زیادہ تر روایات حضرت نافع ہی کے واسطے سے مروی ہیں۔ کہ آپ انگوٹھی پہنتے تھے۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ۔ نافع بن سرجس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد رکردہ ہیں، حدیث کے بہت ہی بڑے فاضل ہیں اور امام مالک کہتے ہیں کہ جب میں نافع کے واسطہ سے حدیث سن لیتا ہوں تو بالکل بے فکر ہوجاتا ہوں۔ مؤطا میں زیادہ تر روایات حضرت نافع ہی کے واسطے سے مروی ہیں۔