كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ اتِّخَاذِ الخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّيْءُ، أَوْ لِيُكْتَبَ بِهِ إِلَى أَهْلِ الكِتَابِ وَغَيْرِهِمْ صحيح حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَنْ يَقْرَءُوا كِتَابَكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ
کتاب: لباس کے بیان میں باب: انگوٹھی کسی ضرورت سے مثلاً مہر کرنے کے لیے یا اہل کتاب وغیرہ کو خطوط لکھنے کے لیے بنانا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ کو ) خط لکھا نا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے ۔ چنانچہ آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ ” محمد رسول اللہ “ کندہ کرایا ۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں ۔