كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ الخَاتَمِ فِي الخِنْصَرِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، قَالَ: «إِنَّا اتَّخَذْنَا خَاتَمًا، وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلاَ يَنْقُشَنَّ عَلَيْهِ أَحَدٌ» قَالَ: فَإِنِّي لَأَرَى بَرِيقَهُ فِي خِنْصَرِهِ
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: انگوٹھی چھنگلیاں میں پہننی چاہیئے
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( محمد رسول اللہ ) کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پرکوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے ۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہاہوں ۔
تشریح :
یہ حکم حیات نبوی میں نافذ تھا کہ کوئی دوسرا شخص آپ کے نام مبارک سے کسی کو دھوکا نہ دے سکے۔ اب یہ خطرہ نہیں ہے اس لیے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی نقش کرایا جا سکتا ہے۔
یہ حکم حیات نبوی میں نافذ تھا کہ کوئی دوسرا شخص آپ کے نام مبارک سے کسی کو دھوکا نہ دے سکے۔ اب یہ خطرہ نہیں ہے اس لیے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی نقش کرایا جا سکتا ہے۔