‌صحيح البخاري - حدیث 5873

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ نَقْشِ الخَاتَمِ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى وَقَعَ بَعْدُ فِي بِئْرِ أَرِيسَ، نَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5873

کتاب: لباس کے بیان میں باب: انگوٹھی پر نقش کرنا ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، کہاہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ عمری نے ، انہیں نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش ” محمد رسول اللہ “ تھا ۔
تشریح : پھر اس کنویں میں تلاش بسیار کے باوجود وہ انگوٹھی نہ مل سکی ۔ معلوم ہوا کہ انگوٹھی کے نگینہ پر اپنا نام نقش کرانا جائز درست ہے باب کا یہی مفہوم ہے۔ پھر اس کنویں میں تلاش بسیار کے باوجود وہ انگوٹھی نہ مل سکی ۔ معلوم ہوا کہ انگوٹھی کے نگینہ پر اپنا نام نقش کرانا جائز درست ہے باب کا یہی مفہوم ہے۔