‌صحيح البخاري - حدیث 5872

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ نَقْشِ الخَاتَمِ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى رَهْطٍ، أَوْ أُنَاسٍ مِنَ الأَعَاجِمِ»، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لاَ يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، نَقْشُهُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَكَأَنِّي بِوَبِيصِ، أَوْ بِبَصِيصِ الخَاتَمِ فِي إِصْبَعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ فِي كَفِّهِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5872

کتاب: لباس کے بیان میں باب: انگوٹھی پر نقش کرنا ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے کچھ لوگوں ( شاہان عجم ) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ جس پر یہ کندہ تھا ” محمد رسول اللہ “ گویا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔
تشریح : باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی پر نقش تھا۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی پر نقش تھا۔