كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ» وَقَالَ عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ: سَمِعَ النَّضْرَ: سَمِعَ بَشِيرًا، مِثْلَهُ
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: سونے کی انگوٹھیاں مرد کو پہننا کیسا ہے
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے نضر بن انس نے ، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے مردوں کو منع فرمایا تھا ۔ اور عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، انہوں نے نضر سے سنااور انہوں نے بشیر سے سنا ۔ آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔
تشریح :
اس روایت سے واضح ہے کہ سونے کی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لیے قطعاً حرام ہے جو شخص حلال جانے اس پر کفر عائد ہوتا ہے لیکن عورتوں کے لیے سونے کا استعمال کرنا جائز ہے۔
اس روایت سے واضح ہے کہ سونے کی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لیے قطعاً حرام ہے جو شخص حلال جانے اس پر کفر عائد ہوتا ہے لیکن عورتوں کے لیے سونے کا استعمال کرنا جائز ہے۔