كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ الجُلُوسِ عَلَى الحَصِيرِ وَنَحْوِهِ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ حَتَّى كَثُرُوا، فَأَقْبَلَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: بورے یا اس جیسی کسی حقیر چیز پر بیٹھنا
مجھ سے محمدبن ابی بکر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا ، ان سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ ( رات کی نماز کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداءکرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا لوگو ! عمل اتنے ہی کیا کروجتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا جب تک تم ( عمل سے ) نہ تھک جاؤ اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے ، خواہ وہ کم ہی ہو ۔
تشریح :
بہترین عمل وہ ہے جس پر مواظبت کی جائے مثلاً تہجد یا اور کوئی نفلی نماز ہے خواہ رکعات کم ہی ہوں مگر ہمیشگی کرنے سے کچھ خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے۔ آج کیا کل ترک کردیا ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ یہ حکم نفل عبادت کے لیے ہے۔ فرائض پر تو محافظت کرنا لازم ہی ہے ۔ روایت میں چٹائی کا ذکر آیا ہے وجہ مطابقت باب اور حدیث میں یہی ہے۔
بہترین عمل وہ ہے جس پر مواظبت کی جائے مثلاً تہجد یا اور کوئی نفلی نماز ہے خواہ رکعات کم ہی ہوں مگر ہمیشگی کرنے سے کچھ خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے۔ آج کیا کل ترک کردیا ایسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ یہ حکم نفل عبادت کے لیے ہے۔ فرائض پر تو محافظت کرنا لازم ہی ہے ۔ روایت میں چٹائی کا ذکر آیا ہے وجہ مطابقت باب اور حدیث میں یہی ہے۔