كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ القُبَّةِ الحَمْرَاءِ مِنْ أَدَمٍ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ وَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: لال چمڑے کا خیمہ بنانا
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے اور انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبردی ( دوسری سند ) اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلوایا اورانہیں لال چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا ۔
تشریح :
یہ وہ قصہ ہے جو غزوہ طائف میں گزر چکا ہے جب انصار نے کہاتھا کہ آپ مال غنیمت قریش کے لوگوں کو دے رہے ہیں ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ابھی تک ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ کیا تم لوگ اس پر خوش نہیں ہو کہ اور لوگ اونٹ اور گھوڑے لے کر جائیں گے اورتم مجھ کو لے کر مدینہ لوٹو گے یا تم تو خزانہ کو نین کے مالک ہو۔ اس پر انصار نے اپنی دلی رضامندی کا اظہار کرکے آپ کو مطمئن کر دیا تھا۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ آمین ۔ یہاں بھی سرخ خیمے کا ذکر ہے۔ یہی باب کی وجہ مطابقت ہے۔
یہ وہ قصہ ہے جو غزوہ طائف میں گزر چکا ہے جب انصار نے کہاتھا کہ آپ مال غنیمت قریش کے لوگوں کو دے رہے ہیں ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ابھی تک ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا کہ کیا تم لوگ اس پر خوش نہیں ہو کہ اور لوگ اونٹ اور گھوڑے لے کر جائیں گے اورتم مجھ کو لے کر مدینہ لوٹو گے یا تم تو خزانہ کو نین کے مالک ہو۔ اس پر انصار نے اپنی دلی رضامندی کا اظہار کرکے آپ کو مطمئن کر دیا تھا۔ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ آمین ۔ یہاں بھی سرخ خیمے کا ذکر ہے۔ یہی باب کی وجہ مطابقت ہے۔